کیا ہم اپنے حصے کا کام کر رہے ہیں؟ ۔ عامر خاکوانی
ایک حکایت کا ذکر کرتے ہیں جو کئی صدیاں پرانی ہے۔ قدیم یونان سے جس کا تعلق ہے۔ یونانی بڑے دانا لوگ تھے، اپنے زمانے کے عظیم دماغ وہاں پیدا ہوئے۔ جن کے علم نے آج تک بہت سوں کو مسحور کر رکھا ہے۔
اسی یونان کا ایک اور قصہ اگلے روز پڑھا۔ ایک شاعر فلسفی کی محفل میں ایک روز وہاں کا مشہور پہلوان آگیا اور اپنی جرأت، طاقت اور فتوحات کے قصیدے سنانے لگا۔ اس نے اپنی اتنی زیادہ تعریفیں کیں کہ سننے والے اکتا گئے۔ اسے مختلف حیلوں، طریقوں سے روکنے کی کوشش کی گئی، مگر کامیابی نہ ہوئی۔
آخر میزبان فلسفی کو لگا کہ انہیں ہی کچھ کرنا ہوگا۔ انہوں نے پہلوان سے مخاطب ہوکر کہا یہ بتاؤ، تم نے اپنے سے زیادہ طاقتور کو زیر کیا ہے، اپنے برابر کے شاہ زور کو یا اپنے سے کم تر کو؟ پہلوان نے اکڑ کر جواب دیا، میں نے اپنے سے زیادہ زور آور پہلوانوں کو ہرایا ہے۔ میزبان نے مسکرا کر کہا، یہ تو ممکن ہی نہیں۔ جو پہلوان تم سے ہار گیا، وہ تم سے زیادہ طاقتور اور ماہر پہلوان کیسے ہوا؟ بلند بانگ دعوے کرنے والے پہلوان نے کچھ حیل حجت کی، مگر منطقی دلائل کے آگے لاجواب ہوگیا۔ اس نے اپنے بیان میں ترمیم کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنی برابری والے پہلوان کو ہرایا تھا۔ فلسفی نے اس پر بھی اعتراض کر دیا کہ جو تمہارے برابر تھا، وہ ہار ہی نہیں سکتا۔ منطقی طور پر تو وہ مقابلہ برابر ہونا چاہیے۔ پہلوان نے آخر جھنجھلا کر کہا کہ میں نے اپنے سے کم تر لڑاکوں کو ہرایا ہے۔ اس پر میزبان زور سے ہنسے اور بولے، لو دیکھو، بھلا اپنے سے کمزور کو ہرا کر بھی کوئی بڑ ہانکتا ہے؟ اپنے سے کم والے کو تو ہر کوئی ہرا دے گا۔ یہ کون سی بہادری اور طاقت ہوئی؟ پہلوان ایسا کھسیانا ہوا کہ فوری اٹھ کر چلتا بنا۔ دل میں البتہ اس نے فلسفے اور منطق کو ضرور صلواتیں سنائی ہوں گی کہ ان کی وجہ سے اسے بھری محفل میں شرمندہ ہونا پڑا۔
اسی یونان کے مختلف شہروں میں علمی، ادبی مجالس اور محافل منعقد ہوتی تھیں۔ دانا لوگ اپنی بیٹھک جمایا کرتے، طرح طرح کے لوگ آتے، علم و ادب کی گفتگو ہوتی، پیچیدہ مسائل کا حل ڈھونڈا جاتا۔ جس زمانے کا یہ قصہ ہے ان دنوں حالات بہت خراب تھے۔ بالکل ہمارے والا حال تھا، دائیں بائیں جنگیں، ہنگامے، غارت گری اور دیگر پریشانیاں، لوگ پریشان ہوتے کہ کیا کریں؟ حالات ان کے بس میں نہیں تھے، واقعات پر ان کا کنٹرول نہیں تھا۔ آخر کیا کریں، کیا نہ کریں؟ ایک دن چند سمجھدار لوگوں نے سوچا کہ اس مسئلے کا حل کسی دانا سے پوچھتے ہیں۔ وہ اپنے علاقے کی ایک معروف اکیڈمی میں گئے جہاں ایک بڑے فلسفی، دانا شخص شام کو بیٹھ کر گفتگو کیا کرتے۔ محفل چلتی رہی، آخر میں سوال جواب کا سیشن آیا تو اس وفد کے سربراہ نے کھڑے ہوکر اپنا مسئلہ بیان کیا۔ فلسفی نے غور سے اسے دیکھا اور پوچھا، آپ جتنے لوگ آئے ہیں، سب آگے آ جائیں۔ وہ پیچھے سے اٹھ کر قریب آ گئے۔ اس فلسفی نے ایک سفید کاغذ اور قلم منگوایا۔ کاغذ کے درمیان میں ایک بڑا دائرہ لگایا۔ اس کے اندر ایک چھوٹا دائرہ لگایا۔ پھر کہنے لگے دیکھیں یہ بڑا دائرہ ہمارا پورا سماج ہے۔ ہم اس میں رہتے ہیں، ہماری اس میں دلچسپی ہے۔ اسے بہتر ہونا چاہیے، یہاں امن، سکون ہو، خیر عافیت رہے۔ ہمارے اوپر کچھ ذمہ داریاں بطور شہری ہیں، وہ ہمیں ادا کرنی چاہئیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ ہمارا ایریا آف کنسرن ہے یعنی وہ دائرہ جس کی ہمیں فکر اور تشویش لاحق ہے جبکہ یہ چھوٹا دائرہ دراصل ہمارا اپنا حلقہ ہے۔ ہمارا گھر، ہمارے کام کاج کی جگہ، ہمارا حلقہ احباب، گلی محلہ وغیرہ۔ یہ ہمارا ایریا آف انفلوئینس ہے یعنی ہمارا دائرہ اثر۔
پھر وہ کہنے لگے، مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہم لوگ اپنے ایریا آف انفلوئینس پر توجہ دینے کے بجائے اپنے ایریا آف کنسرن میں الجھے رہتے ہیں۔ ادھر پریشان رہتے ہیں جہاں ہم کچھ کر نہیں سکتے۔ جہاں ہم کچھ کرسکتے ہیں، بہتری لا سکتے ہیں، ادھر توجہ نہیں ہوتی۔ اس لیے آپ لوگ اس شہر، اس سماج کی ضرور فکر کرو۔ اس کے لیے جو کچھ کرسکتے ہو وہ کرو۔ بطور شہری اپنی ذمہ داری پوری ادا کرو، مگر جو چیزیں آپ کے کنٹرول میں نہیں، ان کی فکر میں ڈوبے رہنے کے بجائے جو کام آپ کر سکتے ہو، وہ تو کرو۔ اپنے گھر بار کی فکر کرو۔ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرو، اہل خانہ کے ساتھ مہربان رہو، اپنی گلی محلے کو صاف ستھرا رکھو، وہاں بہت سی بگڑی چیزیں ٹھیک ہوسکتی ہیں، وہ کرو۔ جہاں کام کاج کرتے ہو، اسے بہترین طریقے سے کرو۔ ملاوٹ نہ کرو، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع نہ لو۔ ہر ایک سے اخلاق سے پیش آؤ۔ اچھے کاموں میں معاونت کرو۔ اہل علم اور اہل خیر کی سپورٹ کرو۔ جب آپ لوگ اپنے حلقہ اثر میں اپنا کام بہترین طریقے سے کرو گے تو خود بخود پورے سماج، پورے شہر، ریاست میں تبدیلی آجائے گی۔ اس لیے اپنے حصے کا کام کرو، جو کام آپ کے کنٹرول میں نہیں، ان کے بارے میں سوچ کر وقت ضائع نہ کیا کرو۔ جو ہوسکتا ہے وہ تو کر گزرو۔
یہ نصیحت واقعی خوبصورت تھی، اس پر ماڈرن ٹرینروں اور موٹیویشن سائنس میں بہت کام ہوا، کئی کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔ ویسے مجھے نہیں معلوم کہ اس نصیحت پر کس حد تک عمل کیا گیا تھا۔ راوی اس بارے میں خاموش ہی رہا۔ ویسے بھی ہم لوگ اچھی اور حکمت بھری باتوں پر کہاں یقین لے آتے ہیں، انہیں ایک کان سے سنتے، دوسرے سے نکال دیتے ہیں۔ البتہ شور شرابے، ہنگامے والی باتیں ہمیں اپیل کرتی ہیں، ہم وہ کرنے کے لیے فوری تیار ہوجاتے ہیں۔
ایک بات جو اس یونانی فلسفی نے شاید نہیں کی، وہ مذہب کے حوالے سے ہے۔ ہمارا یقین ہے کہ دنیا اعمال کی کھیتی ہے، ہمیں وہ کام کرنے ہیں جو روز آخرت ہمارے کام آئیں۔ ان کاموں کی طرف مگر ہم کس قدر فوکس کرتے ہیں؟ بہت بار ہم ان چیزوں میں الجھے رہتے ہیں جو ہمارا کام ہی نہیں، جو ہماری بنیادی ذمہ داری ہی نہیں، جس بارے میں ہم سے پوچھ گچھ ہی نہیں ہوگی۔
ہمیں یاد نہیں رہتا کہ ہمارا حساب کتاب بنیادی طور پر ہمارے حلقہ اثر کے معاملات سے ہوگا۔ ایک دکان دار، ایک ڈاکٹر، انجینیئر، ٹیچر، کسان، پلمبر، مکینک، ویلڈر، الیکٹریشن، سافٹ ویئر انجینیئر، بزنس مین وغیرہ سے ملکی سیاست کے بارے میں شاید ہی کوئی سوال ہوگا۔ اصل سوالات اس کے دین، اس کی عبادات اور اس کے معاملات کے حوالے سے ہوں گے۔ وہ ان میں کس قدر شفاف رہا، ایماندار رہا، فرض شناس رہا۔ اس نے اپنے بیوی بچوں، والدین، بہن بھائیوں، رشتے داروں، ہمسایوں، اپنے ماتحت اور دیگر لوگوں کے کس قدر حقوق ادا کیے؟
اس سے پہلے کہ آپ مجھ پر غیر جمہوری ہونے، پرو اسٹیبلشمنٹ ہونے یا اس نوعیت کا کوئی دوسرا رکیک الزام دھڑلے سے عائد کر دیں، میں وضاحت کر دوں کہ یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر کوئی غیر سیاسی ہوجائے، ملک و قوم کی اور ملک میں چلتے نظام کی فکر ہی نہ کرے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا۔ آپ لوگ اپنی طرف سے بہترین فیصلہ کریں، بہترین لوگوں کو منتخب کریں۔ انہیں مینڈیٹ دیں۔ اچھے لوگوں کو پسند کریں، برے لوگوں کو ناپسند کریں۔ اگر مینڈیٹ چوری ہوجائے تو بے شک اس پر دکھی ہوں، ایسا کرنے والوں سے شاکی ہوں۔ اچھے لوگوں، اچھی سیاسی جماعت کا ضرور ساتھ دیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ مگر یاد رکھیں کہ اصل ذمہ داری سے کوتاہی نہ ہو۔ جو آپ کا حلقہ اثر ہے، جہاں آپ نے بہترین پرفارم کرنا ہے، وہ نہ چوک جائے۔ ایسا نہ ہو کہ سماج سیوا میں آپ کے بیوی بچے محروم اور کم نصیب ر ہ جائیں۔ بچوں کی تعلیم اور تربیت نہ ہو پائے، اہل خانہ کے حقوق ادا نہ ہو پائیں۔
یہ بھی کہ اپنے گلی محلے، ہمسایوں، اپنے جاننے والوں میں آپ جس مثبت تبدیلی کے بیج کاشت کر سکتے تھے، وہ آپ نے کیے؟ لوگوں کو دین کی طرف، مثبت اسلامی اخلاقیات کی طرف، اچھے معاملات زندگی کی طرف جو ترغیب دی جاسکتی تھی، وہ آپ نے کس قدر دی؟ سماج میں خیر کا کام کرنے والوں کو کس قدر سپورٹ کیا؟ جو اچھا کام کرنے والی چیریٹی تنظیمیں ہیں، کبھی ان کی مدد کے لیے بھی کچھ کیا؟ ہزاروں تحریریں اپنے سیاسی مخالفین پر لکھنے والے نے کیا کبھی لوگوں کی بے غرض سیوا کرنے والوں کے حق میں ایک پوسٹ بھی لکھی؟
جو چیزیں ہمارے کنٹرول میں نہیں، ان کی ہم ضرور فکر کریں، ان کے لیےگاہے بگاہےآواز بھی بلند کریں، مگر جو کام ہم کرسکتے ہیں، جن کا ہم سے مواخذہ ہوگا، ان کی طرف تو لازمی توجہ دینی چاہیے۔ اپنے حلقہ اثر میں تو بیسٹ پرفارم کریں۔ پھر سرکل آف کنسرن کی باری آئے گی۔
آخر میں لاہور کے مشہور مرحوم و مغفور دانشور کا بہت بار پڑھا، سنا ہوا واقعہ کہ ایک دوست ان سے ملنے آیا، انہوں نے چائے منگوائی، مگر وہ چائے پینے کے بجائے بڑا متفکر ہوکر حالات حاضرہ پر دکھی تبصرے کرنے لگا۔ انہوں نے چند لمحے انتظار کیا، پھر اس سے سوال پوچھا، یہ بتاؤ تم نے یہ حالات بگاڑے ہیں؟ اس نے کہا نہیں، اگلا سوال تھا، تم انہیں ٹھیک کرسکتے ہو۔ اس نے بے چارگی سے کہا نہیں۔ میزبان دانشور نے آرام سے مشورہ دیا، پھر سکون سے بیٹھ کر پہلے چائے پی لو۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنا احتساب بھی کیا کریں کہ ہم سے جو کام ہوسکتے ہیں، وہ کیوں نہیں کر پا رہے یا کس قدر کیے ہیں؟ جو کام ہمارے کنٹرول میں نہیں، ان پر تو خیر ہم اپنی بہت سی توانائی پہلے بھی لگا چکے ہیں، آئندہ بھی یہ کام کرتے رہیں گے، مگر کچھ ڈھنگ کا تو ہوجائے۔ جو کام آپ کے کرنے کا ہے، وہ تو پہلے کر گزریں۔ پھر باقی سب بھی دیکھ لیجیے گا۔
وما علینا الا البلاغ المبین
[بشکریہ: urdunews.com]
