Take a fresh look at your lifestyle.

اللہ اور رسول سے جھگڑا ۔ ابویحییٰ

اللہ اور اس کے رسول سے جھگڑنے کی بات سن کر ذہن میں کسی منافق کا تصور آتا ہے، مگر قرآن نے ایک جگہ اس ’’جھگڑے‘‘ کو اس طرح بیان کیا ہے کہ رشک آتا ہے:
’’اللہ نے اُس عورت کی بات سن لی ہے جو تم سے اپنے شوہر کے معاملے میں جھگڑ رہی تھی اور اللہ سے فریاد کیے جاتی تھی۔ اللہ تم دونوں کی باتیں سن رہا تھا۔ بے شک، اللہ سمیع و بصیر ہے‘‘،(المجادلہ 58: 1)۔

یہ واقعہ حضرت خولہ بنت ثعلبہ کا ہے جن کے شوہر اوس بن صامت بیوی سے ظہار (بیوی کو ماں قرار دینا) کر بیٹھے۔ یہ عرب کے رواج کے مطابق طلاق کا عمل تھا۔ چنانچہ وہ حضور کے پاس اس امید میں آئیں کہ شاید کوئی راستہ نکل آئے، مگر حضور وحی کی واضح رہنمائی نہ ہونے کی بنا پر متردد تھے کہ انھیں کیا جواب دیا جائے۔ مگر وہ اپنے گھر اور خاندان کو تباہی سے بچانے کے لیے مسلسل فریاد کر رہی تھیں۔ آخرکار اللہ نے ان کے حق میں فیصلہ سنا دیا اور ایک کفارے کے بعد دوبارہ ساتھ رہنے کی اجازت دے دی۔

قرآن میں یہ واقعہ اس لیے سنایا گیا ہے کہ منافقین زندگی کے مشکل امتحانات کو اللہ اور اس کے رسول پر تنقید اور نکتہ چینی کا ذریعہ بنانے کے عادی تھے۔ یوں اس آیت میں اللہ نے ان منافقین کے سامنے درست رویہ رکھا ہے کہ کوئی مشکل آئے تو اللہ کے سامنے گڑگڑانے حتیٰ کہ جھگڑے کی سطح پر پہنچی ہوئی نالہ و فریاد سے بھی وہ ناخوش نہیں ہوتے بلکہ مدد، رحمت اور عنایت کا معاملہ کرتے ہیں۔ جبکہ منفی اندازِ فکر اختیار کرنا نفاق کی علامت ہے جس سے انسان دنیا و آخرت کے خسارے میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

اس بات میں آج کل کے ان لوگوں کے لیے بہت سبق ہے جو زندگی کی مشکلات میں خدا سے ناراض ہوتے، الحاد کا شکار ہوتے یا بے عملی کو اختیار کرکے دنیا و آخرت دونوں خراب کرتے ہیں۔

خدا سے امید کے ساتھ کیا گیا جھگڑا بھی ایک عبادت ہے جو مقبول ہوتی ہے۔