Take a fresh look at your lifestyle.

طلاق اور خاندانی جھگڑوں کا حل؟ ۔ ابویحییٰ

اس وقت ہمارا معاشرہ کئی اعتبار سے بحران کا شکار ہے۔ معاشی، معاشرتی، سیاسی اور مذہبی حوالوں سے ہم طرح طرح کے مسائل کا شکار ہیں۔ تاہم ان مسائل میں سے بہت سے ایسے ہیں جو ہم نے خود پیدا کیے ہیں۔ ان میں سرفہرست مسئلہ خاندانی جھگڑوں کا مسئلہ ہے۔ یہ جھگڑے عام طور پر میاں بیوی اور ساس بہو کے حوالے سے آئے دن ہمارے سامنے آتے رہتے ہیں۔ ان کی سنگینی کئی اعتبار سے تباہ کن ہوتی ہے۔ سب سے پہلے یہ ایک خاندن کے تمام افراد کا ذہنی سکون برباد کر دیتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں زندگی کے دیگر معاملات بھی متاثر ہوتے ہیں۔ یہ جھگڑے جب طول کھینچتے اور آئے دن کا معمول بنتے ہیں تو بچوں پر شدید نوعیت کے نفسیاتی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ یہ اثرات تازیست ان کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ پھر جب ایسے جھگڑوں کے نتیجے میں خاندان جدا ہوتے ہیں، میاں بیوی میں علیحدگی ہوتی ہے تو ہر متعلقہ شخص کی زندگی اس سے شدید طور پر متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے آج کی ملاقات میں یہ چاہتا ہوں کہ اس مسئلے پر تفصیل سے بات کرلی جائے۔

میں واضح کر دوں کہ کسی خاص گھر میں پیدا ہونے والے جھگڑے کے بارے میں کوئی اصولی بات بتانا ممکن نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہر جگہ کے معاملات مختلف ہوتے ہیں۔ ہر انسان اپنی تربیت، طبیعت اور عادت میں جدا ہوتا ہے، اس لیے کوئی اصولی بات تو نہیں کہی جاسکتی کہ کس جگہ جھگڑے کی وجہ کیا ہوتی ہے البتہ کچھ عمومی باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کا خیال اگر رکھا جائے تو معاملات خراب ہونے سے بچ سکتے ہیں۔

ایڈجسٹمنٹ کی تربیت
عام طور پر ہمارے ہاں اس طرح کے مسائل کا آغاز شادی کے فوراً بعد ہوجاتا ہے۔ اس کا سبب ایک بنیادی حقیقت کو نظرانداز کرنا ہوتا ہے۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرتی پس منظر میں شادی کے بعد لڑکی کو اپنا گھر چھوڑ کر سسرال میں جاکر رہنا ہوتا ہے۔ ایک لڑکی کے لیے یہ نئی زندگی کا آغاز ہوتا ہے، اس کے ذہن میں اپنے گھر اور اپنے شوہر کے ساتھ زندگی گزارنے کا ایک تصور ہوتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہوتی ہے کہ وہ لڑکی ایک مرد کی بیوی کم اور ایک دوسرے خاندان کی بہو زیادہ ہوتی ہے۔ یہ بات کتنی ہی ناپسندیدہ کیوں نہ ہو، مگر بہرحال یہ ہمارے ہاں کی ایک معاشرتی حقیقت ہے۔

اس حقیقت کا مطلب یہ ہے کہ وہ لڑکی اپنے شوہر کے ساتھ مل کر ایک نئی زندگی شروع نہیں کر رہی ہوتی بلکہ ایک خاندان کا حصہ بن رہی ہوتی ہے۔ اس خاندان کے کچھ طور طریقے ہوتے ہیں، ملنے جلنے اور لینے دینے کے آداب ہوتے ہیں، تعلقات کا ایک دائرہ ہوتا ہے، رہنے سہنے اور کھانے پینے کا ایک طریقہ ہوتا ہے، معاملات کو کرنے کا ایک انداز ہوتا ہے۔ جبکہ آنے والی لڑکی، چاہے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، اکثر ایک مختلف پس منظر سے آتی ہے۔ اب اگر وہ لڑکی اس حقیقت کو سمجھ لیتی ہے اور خود کو نئے حالات میں ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کرتی ہے تو زیادہ مسئلہ نہیں ہوتا۔ لیکن جیسے ہی وہ اس حقیقت کو نظرانداز کرکے اپنی مرضی کی زندگی گزارنا چاہتی ہے تو جھگڑے فساد کا شروع ہونا لازمی ہے۔

یہ بنیادی حقیقت ہے جسے ہر والدین کو اپنی بیٹی کوواقف کرانا چاہیے کہ ہماری سوسائٹی مغرب یا عرب معاشرے کی طرح نہیں جہاں لڑکا اور لڑکی اپنی زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔ ہماری سوسائٹی میں لڑکی کو شوہر کے ساتھ سسرال کے طور طریقوں کے مطابق ایڈجسٹ ہونے کا ملکہ حاصل ہونا چاہیے۔ جس لڑکی کو اس بات کی سمجھ ہوتی ہے، وہ عام طور پر بہت کامیاب زندگی گزارتی ہے۔

بیٹی اور بہو
ایڈجسٹمنٹ اگر نئی آنے والی لڑکی کی ذمہ داری ہے تو بہرحال سسرال والوں کو بھی یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ لڑکی اپنا گھر بار اور رشتہ دار چھوڑ کر ایک نئی زندگی کا تصور لے کر اِس گھر میں آئی ہے۔ اسے فوری طور پر احتساب کی سولی پر چڑھا دینا زیادتی ہے۔ اسے موقع ملنا چاہیے کہ وہ نئے حالات میں ایڈجسٹ کرسکے۔ اس دوران میں اس سے غلطیاں ہوں گی، وہ بھول کا شکار بھی ہوگی اور ہوسکتا ہے کہ وہ کوئی ناپسندیدہ معاملہ بھی کر بیٹھے لیکن اسے رعایت ملنی چاہیے۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر ایسا نہیں ہوپاتا ہے۔ عام طور پر ایک ساس خود برے حالات سے گزری ہوتی ہے۔ اس نے اپنی سسرال اور ساس کی طرف سے اچھے معاملات نہیں دیکھے ہوتے، اس لیے وہ طے کرلیتی ہی کہ وہی کچھ بہو کے ساتھ بھی لازماً ہونا چاہیے۔ مگر زمانہ چونکہ بیس پچیس سال آگے بڑھ چکا ہوتا ہے اس لیے ساس کے برخلاف نئے زمانے کی بہو زبردست مزاحمت کرتی ہے اور پھر جھگڑے ہوجاتے ہیں۔

مثلاً اگر ایک خاتون کو اس کی ساس نے میکے جانے سے روکا ہوتا ہے تو وہ بھی اکثر یہی کچھ اپنی بہو کے ساتھ کرتی ہے۔ اسی طرح اگر اس پر کام کاج کا تمام بوجھ ڈال دیا گیا ہوتا ہے تو وہ یہی کچھ اپنی بہو کے ساتھ بھی کرتی ہے۔ حالانکہ اس مسئلے کو دیکھنے کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ وہ یہ کہ جو کچھ اس خاتون کے ساتھ ہوا ہے، اگر وہ اس وقت اس کے لیے برا تھا تو بیس پچیس سال بعد اس نئے زمانے کی لڑکی کے لیے یہ زیادہ ناپسندیدہ ہوگا۔ پھر سب سے بڑی بات جو یاد رکھنی چاہیے وہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں کی خواتین بیٹیوں اور بہوؤں کے لیے الگ الگ معیار قائم کرلیتی ہیں۔ حدیث میں یہ بات کہی گئی ہے کہ جو اپنے لیے پسند کرو وہی اپنے بھائی کے لیے پسند کرو۔ یہ بات اگر خواتین ذہن میں رکھیں تو وہ جان لیں گی کہ وہ جو اپنی بیٹی کے لیے چاہتی ہیں، وہی انہیں دوسرے کی بیٹی کے لیے بھی، جو اب ان کی بہو ہے، پسند کرنا چاہیے۔ ان کے یا ان کی بیٹی کے ساتھ اگر کوئی زیادتی ہوئی ہے تو اس کا بدلہ اس نئی لڑکی سے لینا مناسب نہیں ہے۔ ظلم اگر ان کے ساتھ ہوا ہے، طنز و تعریض کے تیر اگر انہوں نے سہے ہیں، ماں باپ کی جدائی کا غم اگر انہوں نے اٹھایا ہے، شوہر کی بے رخی کا صدمہ اگر انہوں نے سہا ہے تو اس میں اس لڑکی کا کوئی قصور نہیں ہے کہ ان تمام چیزوں کا حساب اس نئی لڑکی سے لیا جائے۔ بلکہ ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کرکے ایک بہتر روایت کا آغاز کریں۔

سب کو شئیر کرنا ہوگا
گھریلو جھگڑوں کا ایک اہم سبب اکثر وہ مرد بن جاتا ہے جو ایک طرف ایک خاتون کا شوہر ہوتا ہے اور دوسری طرف وہ ایک طویل عرصے سے کسی اور کا بیٹا اور بھائی ہوتا ہے۔ جھگڑے کا سبب بارہا یہ ہوتا ہے کہ اس مرد پر کس کے حقوق زیادہ ہیں۔ بیوی کے یا ماں کے۔ اس مسئلے کا حل صرف یہی ہے کہ ہر شخص کو کچھ نہ کچھ قربانی دینی چاہیے۔ لڑکی کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ جو لڑکا آج اس کا شوہر بنا ہے، وہ عرصے سے ایک دوسری خاتون کا بیٹا اور کسی اور کا بھائی بھی ہے۔ انہوں نے اسے پالا پوسا اور پڑھایا لکھایا ہے۔ اس لیے اس شخص پر ان لوگوں کے حقوق بہت زیادہ ہیں۔ اس لیے ان پر کبھی اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔اسی طرح سسرال والوں کو بھی یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ میاں بیوی کی ایک پرائیویسی ہوتی ہے۔ انہیں ہر وقت اپنی نگرانی میں رکھنا، بیوی کو میاں سے دور کرنے کی کوشش کرنا، ان کے ذاتی معاملات میں مداخلت کرنا ایک غیر فطری عمل ہے، جس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلتا۔

اسی طرح بچوں کے معاملات بھی نااتفاقی کا سبب بنتے ہیں۔ نئی لڑکیاں اپنے ڈھنگ سے بچوں کو پالنا چاہتی ہیں اور پرانی خواتین اپنے تجربے اور پسند و ناپسند کو درست سمجھتی ہیں۔ دادی لاڈ کرتی ہیں اور ماں سمجھتی ہے کہ بچہ بگڑ رہا ہے۔ ماں کسی وجہ سے بچے کی پٹائی کرتی ہے اور دادی کے نزدیک یہ ظلم ہوتا ہے۔ ان چیزوں کا حل آسان نہیں ہوتا کیونکہ ہر شخص اپنا حق زیادہ سمجھتا ہے۔ اہم بات یہی ہے کہ ہر فریق کو دوسرے کا حق تسلیم کرکے ایڈجسٹمنٹ کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔

میاں بیوی کے اختلاف
بارہا ایسا ہوتا ہے کہ میاں بیوی کے مزاج اور عادات نہیں مل پاتیں۔ یعنی جھگڑے کے اصل فریق وہی دونوں بن جاتے ہیں۔ اس کا ایک سبب اکثر یہی ہوتا ہے کہ لڑکے کی ماں اور بہنیں خود فریق بننے کے بجائے اس لڑکے کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلاتی ہیں۔ یعنی بھائی اور بیٹے کے سامنے لڑکی شکایات کرنا، اس کے عیوب گنوانا اور اس کی زیادتیوں کا رونا رونا۔ اسی طرح بیوی بھی گھر آتے ہی میاں کے سامنے شکایات کی پٹارا کھول دیتی ہے۔ لڑکا اگر ماں باپ اور بہن بھائیوں کا دفاع کرتا ہے تو اس پر بھی جھگڑا ہوجاتا ہے۔

اس کے علاوہ پسند کی شادی بالعموم میاں بیوی کے اختلاف کو جنم دیتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ محبت برابری کا تعلق ہے۔ بلکہ اس میں مرد کو ذرا نیچے ہی رہ کر فریق مخالف نے ناز نخرے اٹھانے پڑتے ہیں۔ جب کہ میاں بیوی کا رشتہ برابری کا نہیں ہے۔ قرآن مجید بالکل واضح ہے کہ اس رشتے میں گھر کی سربراہی مرد کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ بیوی کو اس کی اطاعت کرنی چاہیے۔ ہمارا معاشرہ بھی اسی اصول کو تسلیم کرتا ہے۔ جبکہ فلمیں اور ڈرامے دیکھ کر جوان ہونے والی خاتون توقع رکھتی ہے کہ تعلقات کی وہی سطح برقرار رہے گی جو شادی سے پہلے لو افیئر کے وقت تھی۔ یہ فطری طور پر نہیں ہوتا۔ اس سے محبت کا تعلق کم ہوجاتا ہے اور فساد پیدا ہوتا ہے۔

ہمارے ہاں اکثر مرد اپنی طاقت کا غلط استعمال بھی کرتے ہیں۔ وہ صرف اپنے حقوق سے واقف ہوتے ہیں۔ بیوی کا کوئی حق انہیں نظر نہیں آتا۔ وہ جب چاہتے ہیں اس کی پٹائی کر دیتے ہیں، میکے جانے سے روک دیتے ہیں، اس کی کمزوریوں پر اسے رسوا کرتے ہیں، اس کے ساتھ بدکلامی کرتے ہیں۔ حالانکہ دین نے اگر عورت سے اطاعت کا مطالبہ کیا ہے تو مرد پر یہ بات واضح کر دی ہے کہ ان پر احسان اور درگزر کا رویہ اختیار کرنا واجب ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے خدا کے حضور مجرموں کی طرح پیش ہوں گے۔ دین نے میاں اور بیوی کو جو تعلیم دی ہے اگر دونوں اس پر عمل کریں تو میاں بیوی کا رشتہ، جو اصل میں محبت کا رشتہ ہوتا ہے، اس میں نفرت نہیں در آسکتی۔

اخلاقی اصولوں کی پیروی
خاندانی جھگڑوں کے اسباب تو بے گنتی بیان کیے جاسکتے ہیں، مگر اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ متعلقہ فریقین میں سے ہر ایک اخلاقی اصولوں کی خلاف ورزی کی بنیاد پر زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں لوگوں کی تحقیر کرنا، ان کا مذاق اڑانا، بدگمانی، تجسس، غیبت، چغل خوری اور بہتان تراشی وغیرہ سرے سے کوئی اخلاقی برائیاں سمجھی ہی نہیں جاتیں۔ ہماری خواتین کی باہمی گفتگو کا اگر کبھی تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اکثر گفتگو انہی چیزوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو دلوں میں نفرت اور نااتفاقی کا بیج بوتی ہیں۔لوگوں میں جدائی ڈلواتی اور خاندانوں کو تباہ کر دیتی ہیں۔

اوپر ہم نے میاں بیوی کے جن اختلافات کو بیان کیا ہے اس کا سبب ٹھیک یہی چیزیں ہیں۔ یعنی تمام فریقین اپنی انا اور ہٹ دھرمی پر جم جاتے ہیں۔ دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے تمام اخلاقی حدود پار کرکے اسے برا بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس عمل میں ان تمام اخلاقی برائیوں کو اختیار کرلیتے ہیں، جن کے بعد کسی شخص کو آخرت کی کامیابی نصیب نہیں ہوسکتی۔

اس مسئلے کا حل یہی ہے کہ دین بتانے والے اہل علم لوگوں کو یہ سمجھائیں کہ اصل دین انہی اخلاقی اقدار کی پابندی ہے۔ اس کے بغیر انسانوں کے دیگر نیک اعمال بھی ضائع ہوجاتے ہیں۔

طلاق کا قانون
ایک آخری بہت اہم بات یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ اگر معاملات اتنے خراب ہوجائیں کہ دل سے محبت ہی ختم ہوجائے اور نوبت طلاق تک آجائے تو پھر مرد کو دین کے قانون کے مطابق اس حق کو استعمال کرنا چاہیے۔ بلکہ میرا خیال ہے کہ طلاق دینے کے طریقہ کار کو تو اسکولوں کے نصاب میں شامل کر دینا چاہیے۔ کیونکہ اس طریقے سے واقف نہ ہونے کے نتیجے میں اتنے زیادہ سنگین مسائل پیدا ہوتے ہیں جن کی کوئی حد نہیں۔ ہمارے سامنے تو دن رات یہ سارے مسائل آتے رہتے ہیں جن میں لوگ اپنی بیویوں کو تین طلاقیں دے دیتے ہیں اور پھر جگہ جگہ بھاگتے پھرتے ہیں کہ اب کیا کریں۔

اس ضمن میں دین کا قانون اس قدر خوبصورت ہے بے اختیار داد دینے کو دل چاہتا ہے۔ اس قانون کو ہر فرقہ اور مسلک کے لوگ صحیح قانون مانتے ہیں۔ اس قانون کے مطابق جب نکاح ختم کرنا ہو تو ایک مرد سب سے پہلے یہ دیکھے کہ آیا اس کی بیوی ایام سے پاک ہے۔ اگر ہے تو دوسری چیز یہ دیکھے کہ کیا اس پاکی کی حالت میں میاں بیوی کا تعلق قائم ہوا ہے۔ اگر ہوا ہے تو اگلے ایام کا انتظار کرے اور جب بیوی پاک ہوجائے تو اس پاک حالت میں جبکہ میاں بیوی کا تعلق قائم نہ ہوا ہو بیوی کوایک دفعہ طلاق دے دے۔

اس کے بعد تین حیض تک وہ عورت عدت میں رہے گی۔ عدت کی یہ مدت اسے شوہر کے گھر میں گزارنی ہوگی، سوائے اس کے کہ وہ بدکاری کی مرتکب ہوئی ہو۔ ورنہ خاتون گھر چھوڑے گی نہ شوہر ہی اسے گھر سے نکال سکتا ہے۔ یہ تقریباً تین ماہ کی مدت بنتی ہے جس میں امید یہی ہوتی ہے کہ کوئی غلط فہمی یا وقتی غصہ ہے تو وہ باقی نہیں رہے گا۔ چنانچہ دوران عدت اگر تعلقات ٹھیک ہوجائیں تو دونوں اطمینان سے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ اسے رجوع کہتے ہیں۔ لیکن صورتحال یہی رہتی ہے تو تین ماہ بعد بیوی اور شوہر میں علیحدگی ہوجائے گی اور پھر عورت کا حق ہوگا کہ جہاں چاہے شادی کرلے۔ یہ خیال رہے کہ چاہے طلاق دی جائے یا رجوع کیا جائے قرآن مجید کا حکم یہ ہے کہ یہ دو گواہوں کی موجودگی میں ہونا چاہیے(طلاق2:65) تاکہ کوئی فریق بعد میں غلط بیانی نہ کرسکے۔

طلاق کے بعد اگر مرد تین ماہ میں رجوع کرلیتا ہے تو دونوں دوبارہ میاں بیوی کے طور پر اطمینان سے رہ سکتے ہیں۔ دوبارہ زندگی میں کبھی پھر اسی نوعیت کا اختلاف ہو تو پھر یہی عمل دہرایا جائے۔ مردو دوسری دفعہ بھی ایک طلاق دے کر چاہے تو تین ماہ میں رجوع کرسکتا ہے اور دونوں اطمینان سے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ البتہ مرد نے تیسری دفعہ پھر طلاق دے دی تو اب مرد کسی صورت اس عورت سے رجوع نہیں کرسکتا۔ سوائے اس کے کہ عورت کسی اور سے نکاح کرے، پھر دوسرا شخص بھی اسے طلاق دے یا پھر اس کا انتقال ہوجائے۔ اسی شکل میں وہ مرد اس خاتون سے دوبارہ نکاح کرسکتا ہے،(طلاق230:2)۔

یہ ہے دینی تعلیمات میں تین طلاق مطلب۔ یہ نہیں کہ جب بھی طلاق دینی ہو تین دفعہ طلاق کا لفظ زبان سے ادا کریں۔ قرآن مجید کے مطابق طلاق ایک وقت میں ایک ہی دفعہ دینی چاہیے۔ اس ایک دفعہ طلاق کہنے والے طریقے کی خوبصورتی یہی ہے کہ تین ماہ میں جھگڑا ختم ہوجائے تو ساتھ رہ لیں۔تین ماہ بعد عورت آزاد ہے کہ جہاں چاہے شادی کرے۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ سال دو سال بعد بھی غلطی کا احساس ہو تو یہ دونوں مرد و عورت ایک دفعہ پھر نکاح کرکے نئے سرے سے زندگی شروع کرسکتے ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں طلاق کا مطلب تین طلاق ہوتا ہے۔ یعنی جس شخص کو طلاق دینی ہوتی ہے وہ تین دفعہ ہی طلاق کا لفظ بولتا ہے۔ یہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی اور ایک گناہ کبیرہ ہے۔ جس کے بعد لوگ حلالہ کرواتے ہیں یا روتے رہتے ہیں۔ حالانکہ دین کے طریقے کو اختیار کیا جائے تو کبھی کوئی مسئلہ نہ ہو۔ طلاق دینے پر پشیمانی ہوجائے یا بچوں کے مستقبل کا خیال دامن گیر ہو، ہر صورت میں میاں بیوی دوبارہ ساتھ رہ سکتے ہیں۔ یہی وہ طریقہ ہے جسے امت متفقہ طور پر درست سمجھتی ہے۔ یہی طریقہ قرآن پاک میں بیان ہوا ہے اور یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ہے۔ احناف اسے احسن کہتے ہیں اور باقی ائمہ کے نزدیک یہ سنت طریقہ ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کے علم میں یہی طریقہ ہونا چاہیے اور خدا نخواستہ کبھی طلاق کی نوبت آئے تو اسی طریقے کو اختیار کرنا چاہیے۔ اس سے کوئی شرمندگی ہوگی اور نہ کوئی پچھتاوا اور ٹوٹا ہوا خاندان بھی دوبارہ جڑ سکتا ہے۔