Take a fresh look at your lifestyle.

بھولی بسری داستان ۔ ابویحییٰ

پہلی دفعہ ماں بننا دنیا کی کسی بھی لڑکی کے لیے اس کی زندگی کا سب سے خوشگوار واقعہ ہوتا ہے۔ وہ اس خوشی میں ہر تکلیف کو حوصلے سے برداشت کر جاتی ہے۔ مگر سیدہ مریم کے لیے یہ مرحلہ زندگی کا سب سے بڑا امتحان تھا۔ وہ ہیکل میں اعتکاف کی حالت میں تھیں کہ حضرت جبرائیل نے انھیں ایک بچے کی خوشخبری دی۔ یہ خدا کی قدرت کا ایک اظہار تھا کہ ایک کنواری ماں بننے جارہی تھی۔ مگر وہ یہ بات کس کو بتاتیں اور کیا بتاتیں؟ چنانچہ نو مہینے خاموشی سے گزار دیے اور جب زچگی کا وقت آیا تو وہ بستی سے باہر ایک ویران جگہ پر آگئیں۔ وہ اس حال میں ماں بن رہی تھیں کہ ان کو کوئی پانی پلانے والا بھی نہ تھا۔ قرآن نے اس موقع پر ان کے الفاظ یوں نقل کیے:
’’زچگی کی تکلیف اُسے کھجور کے تنے کے پاس لے آئی۔ (اُس وقت سخت بے بسی کی حالت میں) اُس نے کہا: اے کاش، میں اِس سے پہلے ہی مر جاتی اور بھولی بسری ہوجاتی‘‘،(مریم 19: 23)۔

خدا کی مسجد میں معتکف ایک پاکدامن، عالی نسب لڑکی کے لیے یہ وقت جس ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی اذیت کا تھا، دنیا کی کوئی دوسری لڑکی اس کا تصور نہیں کرسکتی۔ ایسے میں سیدہ نے اپنے لیے موت اور گمنامی کی خواہش کی۔ یہ اس معصوم اور کم عمر لڑکی کے ذہنی کرب کا وہ بیان تھا جسے شاید کسی دوسرے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔

مگر یہ سیدہ کے امتحان کا آخری لمحہ تھا۔ اس کے بعد خدا ان کی طرف سے زمانے کا مقابلہ کرنے آگیا۔ وہاں تنہائی اور بے بسی میں ان کے کھانے پینے کا بندوبست کیا گیا۔ نومولود بچے کو گویائی دی گئی کہ وہ لوگوں کے سامنے ماں کی برأت بیان کرے۔ جس کے بعد ساری زندگی کوئی انھیں بدچلنی کا طعنہ نہیں دے سکا۔ اور پھر وہ انسانی تاریخ کی سب سے زیادہ محترم خاتون بنیں۔ دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی ان کا بے حد احترام کرتی ہے اور ان کا نام خواتین میں دنیا کا سب سے مقبول نام ہے۔

کیا ہی خوب ہے وہ خدا جو اپنے وفاداروں کو اس طرح بدلہ دیتا ہے۔