Take a fresh look at your lifestyle.

عالمی رویت ہلال اور مقامی رویت ہلال ۔ ابویحییٰ

محترم قارئین! رویت ہلال کے حوالے سے ہمارے ہاں جو اختلافات ہوتے رہے ہیں ان کی تاریخ کئی عشروں پر پھیلی ہوئی ہے۔ مگر انفارمیشن ایج کے ساتھ اس میں ایک نئے عنصر کا اضافہ ہوگیا ہے۔ وہ یہ کہ بہت سے لوگ اپنے ملک میں نظر آنے والے چاند کو معیار بنانے کے بجائے کسی دوسرے ملک کے چاند کو معیار بنا کر روزے اور عید وہاں کے حساب سے منانے کا اہتمام کرنے لگے ہیں۔ اسے ہم نے عالمی رویت ہلال کا نام دیا ہے۔

اس حوالے سے آج میں ایک مضمون کا ترجمہ و تلخیص آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں جو بہت سادہ طریقے پر دین اور عقل عام کی روشنی میں ایک معقول بات آپ کے سامنے رکھ دے گا۔ اس سے واضح ہو جائے گا کہ عالمی رویت ہلال کا تصور نہ صرف دین کی اپنی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ عقلی اور عملی طور پر ممکن اور قابل عمل ہی نہیں ہے۔ تاہم مضمون نگار سے اس اصولی اتفاق کے باوجود ہمیں ان کے اس نقطہ نظر سے اختلاف ہے کہ انھوں نے عالمی رویت ہلال کے قائلیں کو اہل بدعت کے زمرے میں شامل کر لیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ نقطہ نظر درست نہیں۔ یہ دراصل ایک علمی مسئلہ ہے جس میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ اس لیے اس میں جذباتی ہونے کے بجائے علمی طریقے پر اس کا جائزہ لینا چاہیے۔

چنانچہ اصل مضمون سے پہلے میں یہ چاہوں گا کہ اہل علم کا اصل اختلاف سامنے رکھ دوں۔ اس معاملے میں ہمارے فقہا میں جو علمی بحث ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک علاقے میں چاند نظر آگیا تو وہ اور کہاں تک کے لوگوں کے لیے حجت ہوگا۔ بعض اہل علم کی رائے ہے کہ ایک شہر کی رویت پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے حجت ہے۔ ہمارے نزدیک یہ نقطہ نظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض باتوں کوان کو اپنے اصل پس منظر میں نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ اللہ اور اس کا رسول کوئی ایسی چیز سارے مسلمانوں پر لازم نہیں کرسکتے جو عملاً ممکن نہ ہو۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں چاند کا ایک دن میں طلوع ہونا ممکن ہی نہیں (اس کی تفصیل آگے آرہی ہے)۔ اس حقیقت کو ہمارے تمام اہل علم مانتے ہیں۔ اس لیے اس باب میں زیادہ درست رائے ہمارے نزدیک یہ ہے کسی ایک شہر میں چاند نظر آگیا تو وہ شہر جس ملک کا حصہ ہے، نظم اجتماعی کی پابندی میں اس سارے ملک پر اس کا اطلاق ہوگا اور ملک کے ہر ہر شہر کے لوگوں کے لیے ضروری نہیں رہے گا وہ کہ اپنی آنکھوں سے چاند دیکھ کر روزہ یا عید کا اہتمام کریں۔ روایات کا درست مطلب یہی ہے۔ یعنی یہ بات کہ ’’چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو‘‘ کا مطلب یہ نہیں کہ ایک جگہ چاند نظر آگیا تو پوری دنیا کے لوگ روزے شروع کر دیں۔ اس بات کے مخاطب پوری انسانیت نہیں، بلکہ ایک نظم اجتماعی یا ایک ملک کے لوگ ہیں۔

دنیا بہت بڑی ہے اور چاند کا مختلف دنوں میں نظر آنا ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اس لیے دوسرے ممالک کے لوگ اپنے ملک میں چاند کے نظر آنے پر روزہ رکھیں گے۔ یہی ہمارے نزدیک روایات اور اہل علم کے ارشادات کا مطلب ہے۔ یعنی چاند دیکھ کر روزہ رکھنے کا مطلب جس طرح یہ نہیں ہے کہ ہر ہر شخص اپنی آنکھوں سے چاند دیکھ کر روزہ رکھے۔ بلکہ اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جب نئے چاند کی اطلاع مل جائے تو گویا نیا مہینہ طلوع ہوگیا سو روزے رکھ لو، ٹھیک اسی طرح اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جس ملک میں چاند نظر آسکتا ہے وہاں کہ لوگ روزہ رکھ لیں اور جس میں اگلے دن نظر آئے وہ اگلے دن سے روزہ رکھنا شروع کریں۔

باقی ہمارے نقطہ نظر کے جو کچھ دلائل ہیں اس کا اچھا خلاصہ چونکہ اس مضمون میں آگیا ہے اس لیے اب اپنی طرف سے مزید کوئی تبصرہ کرنے کے بجائے یہ مضمون پیش خدمت ہے۔ یہ مضمون انٹرنیٹ پر شائع ہوا تھا اور اس کا اردو ترجمہ ’’انذار‘‘ کے لیے محترمہ بت عتیق نے کیا ہے۔

اصل مضمون
آج کل کچھ دیگر ممالک میں رہنے والے مسلمان ’’عالمی رویتِ ہلال‘‘ کی رائے پر عمل پیرا ہیں۔ اس سے مُراد یہ ہے کہ اگر دنیا کے کسی خطے سے چاند دیکھنے کی شہادت موصول ہو جائے تو وہ لوگ اپنے ملک کو چھوڑ کر اس کے مطابق رمضان اور عید وغیرہ کا اہتمام کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ طریقہ درست نہیں۔ ثبوت کے طور پر چند احادیث کا مطالعہ کیجیے:
٭ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں مقامی رویت ہلال ہی کا طریقہ رائج تھا اور انہوں نے اس ہی کی تلقین بھی فرمائی۔ یہ روایت امام مسلم اپنی صحیح میں درج ذیل عنوان کے ساتھ لائے ہیں:
’’ہر قصبے کی اپنی رویتِ ہلال ہے۔ کسی ایک قصبے میں چاند کا نظارہ دوسرے قصبے کے لیے لائقِ تقلید نہیں مانا جاسکتا جبکہ دونوں قصبے نمایاں فاصلے پر واقع ہوں۔‘‘ (صحیح مسلم کتاب الصیام باب 5)

اس عنوان کے تحت وہ روایت بیان کرتے ہیں:
٭ ایک صحابی (کریب) سے روایت ہے کہ ’’ام الفضل نے مجھے کسی کام سے حضرت معاویہ کے پاس شام بھیجا۔ میں شام ہی میں موجود تھا جب وہاں جمعہ کی رات کو رمضان کا چاند نظر آگیا۔ اس مبارک مہینے کے اختتام پر میں مدینہ پہنچا تو حضرت ابنِ عباس نے مجھ سے شام کے بابت سوالات کیے۔ مزید یہ بھی پوچھا کہ وہاں چاند کب دیکھا گیا۔ میں نے عرض کیا کہ ‘ہم نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا’۔ انہوں نے دریافت کیا کہ ‘کیا تم نے بذاتِ خود ہلال کا دیدار کیا؟’ میں نے کہا ‘جی میں نے اور دیگر بہت سے لوگوں نے بھی ہلال دیکھا اور حضرت معاویہ سمیت ہم سب نے اس کے مطابق رمضان کے روزے رکھے’۔ تب حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ‘مگر ہم نے ہفتہ کی رات چاند دیکھا لہٰذا ہم اس کے مطابق 30 دن تک روزے رکھیں گے یا پھر 29 کو (شوال کا) چاند نہ دیکھ لیں۔’ میں نے ان سے دریافت کیا کہ ‘کیا حضرت معاویہ اور ان کی رویتِ ہلال آپ کے لیے لائقِ تقلید نہیں؟’۔ انہوں نے فرمایاکہ ‘نہیں! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہی طریقہ سکھایا ہے۔ (مسلم 1819، ترمذی 629، نسائی 2084، ابوداؤد 1985، احمد 2653۔)

مندرجہ بالا روایت واضح ثبوت پیش کرتی ہیں کہ لوگ اپنے اعتبار سے چاند دیکھ کر روزہ رکھتے تھے اور دوسروں کی پیروی ضروری نہیں سمجھتے تھے۔ حضرت ابنِ عباس کو ایک ایسے شخص نے کہ جس نے بذاتِ خود چاند کا دیدار کیا، اس بات سے مطلع کیا کہ شام میں رمضان کا آغاز ایک دن قبل ہوگیا تھا، تب انہوں نے یہ کہہ کر شام کی رویت ہلال کی تقلید سے انکار کیا کہ یہ ان کی رائے نہیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے کہ دوسرے قصبے کی رویتِ ہلال کی تقلید لازمی نہیں۔ اسلام اور شریعت کے احکامات وقت کے ساتھ نہیں بدلتے۔

شیخ العثیمین نے امریکہ اور دیگر سعودی عرب سے باہر کے ممالک کے مسلمانوں کے لیے صاف اور واضح فتویٰ جاری کیا ہے کہ:
’’یہ ایک معلوم فلکیاتی حقیقت ہے کہ ہر خطۂ زمین پر چاند کی پیدائش کا ایک الگ وقت ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ ایک جگہ ہلال نظر آجائے اور دوسرے خطے میں ابھی ناپید ہو۔ لہٰذا نص کی رو سے جو لوگ چاند نہ دیکھیں ان پر روزہ واجب نہیں۔ اگر سورج کے وقتِ طلوع و غروب میں تغیر کے حساب سے ہر خطے کے اپنے ضابطے ہیں تو چاند کی رویت پر بھی یہی طریقہ صادق آتا ہے۔ اس لیے جواب نہایت سادہ ہے کہ آپ پر آپ کے اپنے قصبے کی رویتِ ہلال کو ماننا فرض ہے۔‘‘(شیخ العثیمین، العقلیات المسلمہ، صفحہ نمبر 84)۔

عالمی رویت ہلال کا طریقہ دراصل بدعت کے زمرے میں شامل ہو جاتا ہے کیونکہ کوئی ایک حدیث بھی اس کے حق میں ہمیں نہیں ملتی ایک علاقے کا چاند دیکھنا دوسرے علاقے والوں کے لیے حجت بن جائے۔ یوں بھی منطقی لحاظ سے قریباً پچاس برس قبل بھی یہ ناممکن تھا کہ چاند کی شہادت کو دیگر ممالک تک پہنچایا جاسکے کیونکہ نہ ٹیلیفون عام تھے اور نہ ہی سفر اتنا آسان تھا کہ گھنٹے دو گھنٹے کی بات ہو۔ کجا کہ صدیوں پہلے خلفاء راشدین کے زمانے میں ایسا ممکن ہوتا۔ بلکہ روایات سے ثابت ہے کہ مسلمان قریب کے شہروں میں رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کی رویت ہلال کی تقلید نہیں کرتے تھے جیسا کہ ابن عباس کی مذکورہ بالا روایت سے یہ بات ثابت ہے۔

عید الاضحی کے معاملے میں بھی اس بات کا کوئی ثبوت قرآن و سنت سے نہیں ملتا کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم یا کسی صحابی نے یہ نام نہاد ’’وحدت المطالع‘‘ (یعنی پوری دنیا کے مطلع کو ایک مان کر ایک جگہ چاند طلوع ہونے کو پوری دنیا کے لیے معیار بنا لینا) قائم کرنے کی کوشش کی ہو۔

اس نقطہ نظر کے حامی یہ کہتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کو حج کی تاریخ (وقوفِ عرفہ) کے مطابق ہی عید الاضحی کا اہتمام کرنا چاہیئے۔ اگر اس رائے کو صحیح مان لیا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں عید الاضحی منانے کے لیے مکہ میں حج کی تاریخ معلوم کرنے کی کبھی کوشش نہ کی۔ مکہ کے مطابق تاریخِ حج کا اعلان کبھی مدینہ میں کیوں نہ کرایا؟ حالانکہ فتح مکہ کے بعد اس امر میں کوئی مشکل نہ تھی کہ مکہ میں حج کی تاریخ معلوم کرلی جاتی کیونکہ (چاند کے بعد سے عید تک کے) دس دنوں کا وقت اس کے لیے بہت کافی تھا کہ ایک گھڑ سوار یہ اطلاع مدینہ اور اردگرد کے علاقوں تک پہنچا دیتا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کوئی اقدام نہ کیا۔ بلکہ ہر قصبے کے لوگ اپنے مقامی ہلال کی رویت کے مطابق ہی عید الاضحی مناتے رہے۔ لہٰذا تمام علماء کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عیدالاضحی ذی الحجہ کی 10 تاریخ کو منائی جائے جس کا انحصار ہر مقام کی اپنی رویتِ ہلال پر ہے نہ کہ مکہ کی رویت ہلال پر۔ ویٹیکن (مسیحیت کے عالمی مرکز) کی طرز پر امت پر ایک عقیدہ ٹھونسنا بدعت ہے۔

عالمی رویت ہلال کا طریقہ اللہ کے احکامات کی نفی کے مترادف ہے۔ جیسا کہ ہم نماز کے اوقات بھی اپنی جائے وقوع پر سورج کی پوزیشن کے حساب سے طے کرتے ہیں تو چاند کی رویت بھی اپنی جائے وقوع سے ہی کریں گے۔ تمام اہلِ عالم کا ایک جگہ کی رویت ہلال پر اتفاق ایک نامعقول بات ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ہم نماز بھی مسجد الحرام کے اوقات کے مطابق پڑھنے لگیں۔

منطق اور مثال سے سمجھنا چاہیں تب بھی آپ اس طریقے کو ناممکنات کی فہرست میں شامل کریں گے۔ اسے درج ذیل مثال سے سمجھیں۔
امریکہ میں رات مشرقی ممالک کے 10 گھنٹے بعد ہوتی ہے۔ یوں نئے چاند پر زیادہ وقت گزرنے کی بنا پر جو چاند مشرقی ممالک میں نظر نہیں آتا وہ اکثر امریکہ میں پہلے نظر آجاتا ہے کیونکہ امریکہ میں رات ہوتے ہوتے چاند پر 10 سے 12 گھنٹے مزید گزر چکے ہوتے ہیں۔ اب فرض کیجیے کہ امریکہ کے جزیرے ’’ہوائی‘‘ میں رمضان کا چاند شام 6:30 بجے نظر آتا ہے تو اس وقت سعودی عرب میں صبح کے 7 بج رہے ہوں گے۔ یعنی نیا دن شروع ہوچکا ہوگا۔ یوں عالمی رویت کے اصول پر نیا چاند نظر آنے کے بعد بھی ان کے لیے روزہ رکھنا ممکن نہیں رہتا۔ جبکہ آسٹریلیا اور فلپائن میں دن کے 12:30 بجے ہوں گے۔ اب یا تو وہ اگلے دن اپنا چاند دیکھ کر روزہ رکھیں یا پھر ان کا پہلا روزہ اور پہلی تراویح سب چلی گئیں۔ اللہ تعالیٰ یہ ناانصافی کیسے کرسکتے ہیں؟

اس مثال سے یہ ثابت ہوا کہ عالمی رویت ہلال کا طریقہ حکمت سے خالی ہے۔ جبکہ مقامی رویت ہلال کا طریقہ کسی طور بھی تعصب اور گروہی برتری و انتشار کا موجب نہیں بنتا کیونکہ اس میں کسی قوم کو دوسری پر برتر نہیں مانا جاتا، نہ ہی یہ مسلمانوں کی باہمی یگانگت میں رکاوٹ ہے۔ بلکہ یہی احسن اور منصفانہ طریقہ ہے۔ اس لیے کہ یہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔

بہرحال اس بحث کا لبِ لباب یہ ہے کہ عالمی رویت ہلال کا کوئی ثبوت بھی ہمیں قرآن و سنت سے نہیں ملتا اور آج کے ایڈوانس دور میں بھی یہ اتنا ہی ناممکن اور نامعقول طریقہ ہے جتنا چودہ سو سال قبل تھا۔

واللہ ُعالمُ۔ سبحانَکَ الَھُمَ وَبِحمدِکَ اشھدُ اللہ الٰہ الا انتَ استغفِرُکَ وَ اتوبُ علیک۔