Take a fresh look at your lifestyle.

ای کیو، آئی کیو اور ایم کیو ۔ ابویحییٰ

الفریڈ بینے(Alfred Binet) ایک فرانسیسی ماہر نفسیات تھا جس نے سن 1905 میں ذہانت کو جانچنے کے لیے پہلا IQ ٹیسٹ ڈیزائن کیا تھا۔ اس ٹیسٹ میں منطقی سوچ، یادداشت اور نتائج تیزی سے اخذ کرنے کی صلاحیت کو جانچا جاتا ہے۔ یہی وہ پیمانہ ہے جو آگے چل کر دنیا بھر میں ذہانت کا معیار قرار پایا۔ ایسے لوگ اپنے تعلیمی کیریئر میں ہمیشہ آگے رہتے ہیں۔ بہترین تعلیمی اداروں میں داخلہ پاتے ہیں۔ اسکالرشپ لیتے ہیں اور اعلیٰ ملازمتوں میں بھی انھی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ چنانچہ ذہانت کامیابی کی علامت قرار پاگئی۔

تاہم اسی زمانے میں ایک بچے کی شہرت بہت عام ہوئی جس کی زندگی نے یہ تصور باقی نہ رہنے دیا۔ یہ بچہ ولیم جیمس نام کا تھا جس کی ذہانت کا کوئی مثل نہ تھا۔ اس نے ڈیڑھ سال کی عمر میں اخبار پڑھنا شروع کر دیا۔ تین سال کی عمر میں اپنی مادری زبان انگریزی کے ساتھ لاطینی زبان سیکھ لی۔ چھ سال میں ایڈوانس میتھ میں مہارت حاصل کر لی۔ آٹھ سال کی عمر تک آٹھ زبانوں پر عبور حاصل کر لیا۔ گیارہ سال میں ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا اور بارہ سال کی عمر میں وہاں لیکچر دینے لگا۔

تاہم عملی زندگی میں ولیم جیمس جس کا آئی کیو 250 سے 300 سمجھا جاتا ہے، ایک اوسط سے کم تر زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہوا۔ اس کے نام کے ساتھ کوئی غیر معمولی کارنامہ موجود نہیں نہ عملی زندگی میں وہ کوئی بہت کامیاب انسان تھا۔ وہ چھیالیس سال کی عمر میں فالج سے انتقال کر گیا۔

یہیں سے ماہرین نفسیات نے عملی زندگی میں کامیاب اور ناکام لوگوں کی صلاحیتوں کا دوبارہ جائزہ لینا شروع کیا تو رفتہ رفتہ یہ حقیقت سامنے آئی کہ آئی کیو سے کہیں بڑھ کر کچھ اور صفات ہیں جو انسان کو عملی زندگی میں کامیاب بناتی ہیں۔ نوے کی دہائی تک اس تصور کو ماہرین نفسیات نے EQ کے عنوان سے پیش کرنا شروع کر دیا تھا جسے ڈینیل گول مین (Daniel Goleman) نے اپنی شہرہ آفاق کتاب Emotional Intelligence: Why It Can Matter More Than IQ میں بیان کرکے دنیا بھر میں مقبول بنا دیا۔ اس اصطلاح کا مطلب یہ تھا کہ انسان کو اپنے جذبات کو قابو رکھ کر ان کا اظہار کرنے کاسلیقہ آتا ہو۔ ایسے ہی لوگ دنیا میں زیادہ کامیاب ہوتے ہیں۔

اس کے ساتھ ماہرین نفسیات نے ایک اور تصور بھی پیش کیا تھا جو درحقیقت ای کیو سے بھی زیادہ بڑی صلاحیت تھی۔ اسے Metacognition کا نام دیا گیا۔ ہم سہولت کے لیے اسے MQ کہہ دیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی سوچ کے بارے میں متنبہ رہنا ہے کہ ہم کیا سوچتے ہیں۔ تاہم ایسا کرنا آسان نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری سوچ عام طور پر اندرونی اور بیرونی احساسات کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہےاور پھر ہمیں اس طرح اپنا اسیر کرتی ہے کہ ہم اس پر متنبہ رہنے کا کوئی موقع نہیں پاتے۔

یہ احساسات اپنی نوعیت کے لحاظ سے تین اقسام کے ہوتے ہیں۔ پہلی قسم کے احساسات ہمیں روز مرہ کی ضروریات، گھریلو اور دفتری معمولات وغیرہ کو سرانجام دینے پر آمادہ کرتے ہیں۔ انھیں پورا کرنے کے لیے جو سوچ وجود میں آتی ہے اسے ہم روٹین کی سوچ کہہ سکتے ہیں کیونکہ ان میں سوچ کا مقصد معمول کے امور کی انجام دہی ہوتا ہے۔ بولنا، کھانا بنانا، ڈرائیونگ کرنا اس کی عام مثالیں ہیں۔ دوسرے احساسات پسندیدگی کے ہیں۔ یہ احساسات پیدا ہوتے ہیں تو ہماری سوچ ان عوامل سے ہمیشہ متاثر رہتی ہے جو انھیں پیدا کرتےہیں۔ اسے منفعل (influenced) سوچ کہہ سکتے ہیں۔ تیسرے احساسات ناگواری کے ہیں جو ہمارے اندر ردعمل کی سوچ پیدا کرتے ہیں۔ اسے ردعمل پر مبنی یا ری ایکٹو سوچ کہہ سکتے ہیں۔

سوچ کی یہ تینوں اقسام یعنی روٹین تھنکنگ، انفلوئنسڈ تھنکنگ اور ری ایکٹو تھنکنگ انسان پر اس طرح غالب ہوجاتی ہیں کہ ہم اپنی آزادانہ سوچ کو اختیار کرنے کے بجائے ان کے تحت اپنے اندر جذبات پیدا کرتے ہیں اور عمل کرتے چلے جاتے ہیں۔ ہمارا ہر عمل اور رویہ ہماری سوچ کے انھی تین دھاروں سے پھوٹتا ہے اور رفتہ رفتہ پوری شخصیت کی تشکیل کر دیتا ہے۔

جس وقت ہم سوچ کے ان تین دھاروں کے بارے میں متنبہ ہوجاتے ہیں تو ہر عمل سے پہلے یہ سوچنے کے قابل ہوجاتے ہیں کہ ہم ان تین میں سے کس سوچ کے زیر اثر عمل کر رہے ہیں۔ پھر اثر اور رد عمل کے درست یا غلط ہونے یا معمول کے کام کے بہتر ہونے یا نہ ہونے کا اندازہ کرسکتے ہیں۔ یہی چیز MQ یا میٹا کاگنیشن کو جنم دیتی ہے۔ یہ کام نہ کیا جائے تو انسان بار بار غلطیاں کرتا ہے، تعلقات اور معاملات خراب کرتا رہتا ہے۔ لیکن یہ کام کر لیا جائے تو زندگی ہر پہلو سے بہتر ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس پہلو سے MQ انسان کی سب سے بڑی خصوصیت ہے جس میں وہ اپنی سوچ کا رخ موڑ کر زندگی کو بہتری کی طرف لے جاسکتا ہے۔ یہ کامیاب ہی نہیں بلکہ بہتر زندگی کا بھی سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

ایم کیو (MQ) کی یہ صلاحیت قرآن کریم کی اصطلاح میں اِنابت کہلاتی ہے۔ اِنابت کا لفظی مفہوم لوٹنا، رجوع کرنا ہے۔ عملی طور پر اس کا مطلب خدا کی طرف متوجہ ہو کر یہ سمجھنا ہوتا ہے کہ خدا ہر موقع پر انسان سے کیا چاہتا ہے۔ نعمت پر شکر، مصیبت پر صبر، خواہش و جذبات کے غلبہ پر تقویٰ، اندیشوں پر توکل، مصروفیت میں ذکر، غلطی پر توبہ، بندوں اور خالق کے معاملے میں اخلاقی اور شرعی حدود کی پابندی؛ یہی خدائی مطالبات ہیں اور انھی کو ذہن میں رکھنا اِنابت ہے۔ جسے اِنابت آگئی اس نے بندگی کی زندگی کو پالیا۔ اس نے جنت کا راستہ پالیا۔

اِنابت دنیا کی کامیابی ہے۔ اِنابت آخرت کی کامیابی ہے۔