Take a fresh look at your lifestyle.

موت کا تعاقب ۔ ابویحییٰ

Frank Winnold Prentice ایک برطانوی تجارتی سیلر تھےجو مشہور زمانہ ٹائٹینک جہاز کے عملے کا حصہ تھے۔ وہ 1889 میں پیدا ہوئے اور 1912 میں ٹائٹینک کے حادثے کے وقت 23 برس کے تھے۔ ان کا ایک انٹرویو بی بی سی نے 1979 میں لیا جو اب یوٹیوب پر دیکھا جاسکتا ہے جس میں انھوں نےحادثے کی تفصیلات بیان کیں۔

انٹرویو میں انھوں نے بتایا کہ جہاز کے ڈوبنے سے قبل جب لائف بوٹس میں خواتین کو بٹھایا جارہا تھا تو ان کا سامنا ہنی مون پر آئے ہوئے ایک جوڑے سے ہوا۔ انھوں نے خاتون کو لائف جیکٹ پہننے میں مدد دی۔ وہ خاتون اپنے شوہر کو چھوڑ کر بوٹ میں بیٹھنے پر آمادہ نہ تھی، مگر ان کے امید دلانے پر کہ شوہر بھی جلد آجائے گا وہ بوٹ میں بیٹھ گئی۔

بعد میں جب جہاز ڈوبا تو وہ برفیلے پانی میں تیرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ ان کو ایک لائف بوٹ نے بچا لیا۔ مگر اس کے باوجود وہ سردی سے مرجاتے مگر لائف بوٹ میں ان کو اسی خاتون کے برابر میں جگہ ملی جسے انھوں نے لائف بوٹ میں بیٹھنے پر آمادہ کیا تھا۔ اس خاتون نے اپنے کمبل سے ان کو ڈھانک دیا اور وہ ٹھنڈ سے مرنے سے بھی بچ گئے۔

فرینک نے بعد ازاں دوبارہ بحری ملازمت شروع کر دی اور پہلی جنگ عظیم میں بھی حصہ لیا۔ اس کے بعد دنیا میں عالمگیر فلو کی وبا پھیلی جس میں کروڑوں لوگ ہلاک ہوئے۔ اس سے زیادہ ہلاکتیں دوسری جنگ عظیم میں ہوئیں۔ فرینک ان سب سے بچتے ہوئے 93 برس تک زندہ رہے۔ مگر موت سے وہ نہ بچ سکے اور 1982 میں ان کا انتقال ہوگیا۔

موت ہر انسان کے تعاقب میں ہے۔ انسان حادثات، بیماری، جنگ و جرائم سب سے بچ سکتا ہے، مگر موت سے نہیں۔ مگر ہر انسان یہ سمجھ کر جیتا ہے کہ اسے موت نہیں آئے گی نہ اسے اگلی دنیا کے لیے کسی تیاری کی ضرورت ہے۔ کتنی یقینی ہے موت اور کتنا غافل ہے انسان اپنی موت سے۔
By Abu Yahya (Dr. Rehan Ahmed Yousufi)