Take a fresh look at your lifestyle.

تاتاری اور مسلمان ۔ ابویحییٰ

تاتاری اور مسلمان

چنگیز خان (1162تا 1227) دنیا کے ظالم ترین حکمرانوں میں سے ایک تھا جس نے پہلے منگولیا پر اپنی حکومت قائم کی اور پھر پورے عالم اسلام کو اس نے اور اس کی اولادوں نے روند ڈالا۔ بلامبالغہ کروڑوں لوگوں کو ان تاتاریوں نے مار ڈالا۔ ان کی برپا کردہ تباہی کا اندازہ اس طرح لگایا جاسکتا ہے کہ موجودہ ایران کی آبادی کا تخمینہ ان کے حملے سے قبل ستر لاکھ سے ایک کروڑ کے لگ بھگ تھا جو حملوں کے بعد صرف بیس سے تیس لاکھ بچا۔ بغداد کی آبادی 10 لاکھ تھی جو حملے کے بعد بمشکل ایک لاکھ کے قریب رہ گئی۔

عورتیں ان کے ظلم و ستم کا خصوصی نشانہ تھیں۔ کیونکہ چنگیز خان کی سوچی سمجھی پالیسی یہ تھی کہ مردوں کے ساتھ بزرگ خواتین کو مار دیا جائے اور جوان خواتین کو اپنے فوجیوں کی تسکین کا سامان بنا کر ان میں بانٹ دیا جائے۔ یوں ایک طرف بے ضرر خادمائیں ساری زندگی کے لیے میسر آجائیں گی اور دوسری طرف ان سے جو اولاد ہوگی وہ تاتاری پیدا ہوگی۔ یوں دوسری قوم کا نام و نشان مٹ جائے گا اور چنگیزی سلطنت ہمیشہ قائم رہے گی۔

تاتاری، مردوں میں سے صرف ان لوگوں کو زندہ چھوڑا کرتے تھے جو ان کے کسی کام کے ہوتے تھے۔ جیسے کسی ہنر یا فن کے ماہرین وغیرہ۔ انھی چھوڑے جانے والے لوگوں میں کچھ علما بھی ہوتے تھے۔ اُس زمانے میں چونکہ دین و دنیا کے علم کی کوئی دوئی نہیں ہوتی تھی، اس لیے عالم ہونے کا مطلب تھا کہ ہر عالم دین بھی جانتا تھا اور اس کے ساتھ دنیا میں جو کچھ علوم و فنون موجود تھے، ان سے بھی واقف تھا۔ اسی بنا پر بہت سے اہل علم کی جان بچ گئی تھی۔

مگر خدا کی قدرت کا یہ کرشمہ ہے کہ یہی مظلوم خواتین جو تاتاریوں کی بربریت کا شکار ہوئیں جب وہ ان کے بچوں کی مائیں بنیں تو انھوں نے غیر محسوس طریقے سے اپنے بچوں میں اسلام کو منتقل کرنا شروع کر دیا۔ جبکہ زندہ رہ جانے والے علما کے گروہ نے پوری قوت کے ساتھ خود کو اسلام کی دعوت کے لیے وقف کر دیا۔ یوں ان دونوں گروہوں نے مل کر ایک صدی میں اسلام کو دوبارہ زندہ کر دیا۔

اس حوالے سے ایک بڑا اہم واقعہ وہ ہے جسے پروفیسر تھامس واکر آرنلڈ نے اپنی مشہور کتاب (The Preaching of Islam) میں بیان کیا اور پھر مولانا ابوالحسن علی ندوی نے اپنی کتاب تاریخ دعوت و عزیمت کی جلد اول میں نقل کیا ہے۔ خلاصہ یہ ہےکہ کاشغر کی ریاست کے تاتاری بادشاہ تغلق تیمور خان اپنی شہزادگی کے زمانے میں شکار کھیل رہا تھا کہ ایک بزرگ شیخ جمال الدین کا ادھر سے گزر ہوا۔ اس نے تحقیر کے ساتھ شیخ سے کہا کہ تو بہتر ہے یا میرا کتا۔ اس پر شیخ نے جواب دیا کہ میں ایمان کے ساتھ دنیا سے چلا گیا تو میں بہتر ہوں ورنہ یہ کتا بہتر ہے۔ شہزادے کے دل میں یہ بات چبھ گئی۔ اس نے شیخ سے ایمان کی تفصیل پوچھی اور پھر بعد میں یہی واقعہ اس کے ایمان لانے کا سبب بنا۔

اس دنیا میں مسلمانوں کا امتحان یہی ہے کہ انھیں اللہ تعالیٰ سے وفاداری نبھانی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے وفاداری نبھائیں گے تو دنیا و آخرت کی عزت پائیں گے۔ نہیں نبھائیں گے تو اللہ تعالیٰ انھیں کتے سے بھی زیادہ بے وقعت کرکے عبرت کا نشان بنا دیں گے۔ تاتاریوں نے مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ کیا وہ اسی خدائی سزا و جزا کا ظہور تھا۔ مگر جب مسلمانوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو انھوں نے اپنے جرائم کی تلافی کر دی۔

آج بھی مسلمان ایسی ہی سزا کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے مسلمانوں کی لیڈرشپ اپنی غلطی کا احساس کرنے کے بجائے دو سو برس سے اپنے طرزِ عمل پر قائم ہے۔ اگر یہ روش نہیں بدلی تو پھر جلد یا بدیر وہی کچھ ہوگا جو تاتاریوں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا تھا۔